ابنا: الجزیرہ کے مطابق بحرین کے ولیعہد سلمان بن حمد آل خلیفہ نے بحرینی عوام کے شدید احتجاج اور مطالبات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے حالیہ اعتراضات کی وجہ سے ملک دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگيا ہے۔بحرین کے ولیعہد نے اپنے آقا برطانوی وزیر خارجہ ویلیم ہیگ کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین کے ساتھ قومی مذاکرات ناکام ہوگئے اور حالیہ واقعات میں ہم نے بہت سے اشتباہات کا ارتکاب کیا ہے لیکن اس تجربہ سے ہم نے سبق بھی حاصل کیا ہے الجزيرہ کے مطابق بحرینی جوانون نے مصر اور تیونس کے جوانوں کی طرح سماجی چینلوں سے استفادہ کیا اور انھیں معلوم نہیں تھا کہ آل خلیفہ ان کے خلاف اس سے عدالت میں استفادہ کرےگی بحرینی حکومت کی سفاکی ، قتل و غارت گری ، ظلم و ستم کے باجود بحرینی عوام کا احتجاج جاری ہے اور بحرینی عوا م کے عتاب سے سعودی حکومت بھی بحرینی حکومت کو نہیں بچا سکے گي سعودی عرب نے مصری ڈکٹیٹر حسنی مبارک کو بچانے کی بہت کوشش کی لیکن اسے اس میں شدید ناکامی اٹھانا پڑی تیونس کے ڈکٹیٹر نے بھی سعودی عرب میں پناہ لےرکھی ہے سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل نواز عرب حکمرانوں کی پناہ گاہ بن گيا ہے سعودی عرب سے اس وقت عام مسلمان متنفر اور بیزار ہیں کیونکہ سعودی عرب کے حکمرانوں کی خصلتیں اور ان کےعادات و اطوار کفار قریش سے ملتے جلتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز